بگ بینگ کے بعد کیا ہوا؟
- Shakir Khan

- Nov 11, 2024
- 4 min read
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم سب کی شروعات کہاں سے ہوئی؟ ایک لمحے میں پوری کائنات روشنی سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل گئی۔ یہ حقیقت کسی سائنس فکشن سے کم نہیں۔ یہ صرف ایک دھماکہ نہیں تھا، یہ ایک آغاز تھا، وہ آغاز جس نے ہر چیز کو وجود بخشا، وہ جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہے ہماری کائنات کی حیرت انگیز کہانی۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کائنات میں روشنی سے تیز رفتار کچھ بھی نہیں، لیکن شروعات میں کائنات نے اس اصول کو توڑ دیا؟
"کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آج سے 13 ارب 80 کروڑ سال پہلے، کائنات کا ہر ذرہ ایک بے حد چھوٹے نقطے میں تھا؟ اور پھر اچانک ایسا دھماکہ ہوا کہ سب کچھ بدل گیا!
Cosmic Inflation: کائناتی پھیلاؤ

اج سے 13 رب 80 کروڑ سال پہلے کائنات ایک نقطے جسے ہم Singularity کے نام سے جانتے ہیں اس سے پھیلنا شروع ہوئی اور یہ پھیلاؤ روشنی کی رفتار سے بھی بہت زیادہ تھا،لیکن آئینسٹائن ہمیں بتاتے ہیں کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے تیز حرکت نہیں کر سکتی تو پھر کس طرح ہماری کائنات روشنی کی رفتار سے بھی تیز پھیلنے لگی؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہماری کائنات میں موجود ذرے یا مادہ بذات خود روشنی کی رفتار سے تیز حرکت کرنے نہیں لگے تھے بلکہ ہماری کائنات میں موجود سپیس فیبرک بہت زیادہ تیزی سے پھیلنے لگا تھا جس کی وجہ سے ہماری کائنات میں موجود ذرات ایک دوسرے سے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ دور ہونے لگے،
اس کو ہم ایک دوسری مثال سے یوں سمجھ سکتے ہیں کہ مان لیں اپ کے پاس ایک غبارہ ہے جس کے اوپر اپ مارکر سے کچھ نقطے ڈرا کر لیتے ہیں اب اگر اپ اپنے اس غبارے کے اندر ہوا ڈالتے ہیں تو اپ دیکھتے ہیں کہ غبارے کی سطح پھیلنے لگتی ہے اور وہ نقطے ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں اپ نے اپنے اس تجربے میں دیکھا کہ نقطوں نے خود حرکت نہیں کیا بلکہ نقطے جس فیبرک پر موجود تھے اس کے پھیلاؤ کی وجہ سے نقطے ایک دوسرے سے دور ہونے لگے ٹھیک اسی طرح ہماری کائنات کے اندر موجود اجسام ایک دوسرے سے دور ہونے لگے اور ان کے دور ہونے کی رفتار روشنی کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تھی۔
کاسمولوجسٹ کہتے ہیں کہ کائنات کے اس پھیلاؤ نے ہمیں کائنات سے متعلق بہت سے سوالات کے جوابات دے دیے ہیں، جیسے کہ کائنات کا فلیٹ ہونا اور اس میں curvature کا نہ ہونا۔
Big bang and Nucleosynthesis:ایٹم اور عناصر کی تشکیل

کائنات کا پھیلاؤ جب سست ہوا تو کائنات کے پھیلاؤ کے لیے زمہ دار توانائی مادے اور فوٹان پارٹیکل میں تبدیل ہونے لگے۔
بگ بینگ کے ایک سیکنڈ بعد کائنات انتہائی گرم ہوئی اور اس کا درجہِ حرارت 18 ارب °F اور 10 ارب °C ہو گیا تھا اور کائنات روشنی (photon) اور پارٹیکلز کا ایک سوپ بن کر رہ گئی تھی۔
اسی دورانیہ کو ہم Nucleosynthesis کہتے ہیں جہاں پہلی مرتبہ ہائیڈروجن,ہیلیم اور بیریلم کے ایٹم بنے تھے۔
اگلے پانچ منٹس میں کائنات کافی زیادہ ٹھنڈی ہو گئی اور آج جس ہیلیم سے ہم واقف ہیں وہ بن گئی کائنات کے پھیلاؤ اور ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے مزید عناصر تشکیل نہیں دے پائے اب کائنات میں الیکٹرانز کی وجہ سے ہر طرف دھند ہی دھند ہو گیا تھا اور روشنی دور تک سفر نہیں کر پاتی تھی۔
Recombination:

ایٹم بننے کے بعد کے دور کو فلکیات میں Recombination کا نام دیا جاتا ہے Recombination کا دور اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کائنات ٹھنڈی ہوئی اور ایٹم دوسرے الیکٹرانوں کو اپنی طرف کھینچنے لگے اور یوں کائنات میں فری الیکٹرانز بڑے پیمانے پر کم ہونے لگے اور کائنات ایک بار دوبارہ شفاف ہوئی جس کا یہ فائدہ ہوا کہ روشنی دور دور تک پھیلنے لگی اس سے پہلے فوٹان پارٹیکلز ایک دوسرے کے ساتھ صرف ٹکراتے تھے اور قید تھے مگر جب سے ایٹم بنے تو فوٹان ازاد ہوئے یہ ازاد فوٹان اج بھی موجود ہیں اور انہیں ہ Cosmic Microwave Background Radiation کاسمک مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ ریڈاییشن کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔
Dark Ages:مکمل اندھیرا
بگ بینگ کے اگلے 200 ملین سالوں تک کائنات بالکل غیر شفاف رہی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ روشنی کو زیادہ تر ہائیڈروجن کے ایٹم جذب کر لیتے تھے اس وقت تک کائنات میں کوئی ستارہ نہیں تھا جو کہ چمک سکے اور یوں کائنات میں ایک لمبے عرصے تک اندھیرا قائم رہا۔
پہلے ستارے
First Stars Formation after Big Bang:بگ بینگ کے بعد پہلے ستارے کی تشکیل
کائنات میں گیس (ہائیڈروجن ہیلیم) ہر جگہ یکساں نہیں تھی۔ کچھ علاقوں میں یہ ٹھنڈی اور گھنی تھی، جس کی وجہ سے گیس کے بادلوں میں گانٹھیں بننے لگیں۔ جب یہ گانٹھیں بڑی اور بھاری ہوئیں تو ان کی کشش ثقل نے مزید مادے کو اپنی طرف کھینچنا شروع کیا۔ یہ بادل مزید گھنے اور کمپیکٹ ہو گئے اور ان کے درمیان کا حصہ اتنا گرم ہو گیا کہ وہاں جوہری فیوژن کا عمل شروع ہو گیا۔ یوں پہلے ستارے وجود میں آئے۔ یہ ستارے ہمارے سورج سے 30 سے 300 گنا زیادہ بڑے اور لاکھوں گنا زیادہ روشن تھے۔ چند سو ملین سالوں کے دوران، یہ پہلے ستارے آپس میں مل کر پہلی کہکشائیں بنانے لگے۔
Reionization:دوبارہ آئنائزیشن
شروع میں، ستاروں کی روشنی دور تک سفر نہیں کر سکتی تھی کیونکہ آس پاس کی گیس زیادہ گھنی تھی اور روشنی کو بکھیر دیتی تھی۔ آہستہ آہستہ، ان ستاروں سے نکلنے والی الٹراوائیلٹ شعاعیں ہائیڈروجن کے ایٹمز کو توڑ کر آئنائز کرنے لگیں، یعنی انہیں الیکٹران اور پروٹون میں تقسیم کر دیا۔ جب یہ عمل آگے بڑھتا گیا، تو زیادہ سے زیادہ ہائیڈروجن آئنائز ہوتی گئی، اور روشنی دور تک سفر کرنے لگی۔ جب کائنات تقریباً 1 ارب سال کی ہوئی، تو ستاروں اور کہکشاؤں نے تقریباً تمام گیس کو شفاف بنا دیا، جیسا کہ ہم آج دیکھتے ہیں۔
کافی عرصے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ کائنات کا پھیلاؤ آہستہ ہو رہا ہے، لیکن 1998 میں انہوں نے دریافت کیا کہ یہ پھیلاؤ دراصل تیز ہو رہا ہے۔ یہ انکشاف کچھ سپرنووا کے دھماکوں کو دیکھ کر کیا گیا۔ ان دھماکوں سے بننے والی روشنی توقع سے کم روشن نظر آئی، جس سے پتہ چلا کہ یہ سپرنووا ہماری سوچ سے زیادہ فاصلے پر ہیں، اور یہ فاصلے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس پھیلاؤ کے پیچھے ایک پراسرار شے ہے جسے وہ ڈارک انرجی کہتے ہیں۔ مستقبل میں مزید تحقیق سے نئے انکشافات ہو سکتے ہیں، مگر موجودہ نظریات کے مطابق، شاید کائنات ہمیشہ کے لیے پھیلتی رہے گی۔


Comments