پاکستان کا نیا سیٹلائٹ اڑان بھرنے کے لیے تیار
- Shakir Khan

- Jan 17, 2025
- 3 min read
ای او اوّل (EO-1) - شاہین کی آنکھیں
جمعتہ المبارک 17 جنوری 2025 (یعنی آج) پاکستان کی تاریخ کا وہ یادگار دن بننے والا ہے جب پاکستان اپنا جدید الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ خلا میں بھیجے گا اور آسمان سے زمین کی سطح کو دیکھنے والی عقابی نظریں رکھنے والے گنتی کے چند ممالک میں شامل ہو جائے گا۔
پاکستانی خلائی ادارے اسپارکو SUPARCO کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ای او اول سیٹلائٹ کو چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے زمین کے گرد اس کے مدار کی جانب روانہ کیا جائے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سیٹلائٹ مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے اور اس کی کامیاب لانچ کے ذریعے پاکستانی سائنسدانوں کو خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا بھرپور موقع ملے گا۔
یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹس (Electro-Optical Satellites) کیا ہوتے ہیں؟
سادہ ترین الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ کسی بھی ملک کے لئے آنکھوں کا کام کرتے ہیں۔ یہ ہائی ریزولیوشن کیمروں اور حساس آپٹیکل سینسرز سے لیس ہوتے ہیں اور زمین کی انتہائی واضح اور تفصیلی تصاویر کا حصول ممکن بناتے ہیں۔
ان میں نصب امیجنگ ڈیوائسز اور دیگر آلات انہیں اس قابل بناتے ہیں کہ یہ زمینی سطح کو بہت قریب سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی حالات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے نہایت درستگی کے ساتھ معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
ای او اول کو جن مقاصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے خلا میں بھیجا جا رہا ہے وہ آج کے خلائی دور میں کسی بھی ملک کے لئے بے پناہ اہمیت کے حامل ہیں اور مستقبل قریب میں اس قسم کے سیٹلائٹس کسی بھی قوم کے لئے کسی خزانے سے کم نہ ہوں گے۔

اس سیٹلائٹ کے مقاصد:
یہ سیٹلائٹ ملک کے طول و عرض میں موجود قدرتی وسائل کی نگرانی اور ان کے بارے میں درست معلومات مہیا کرے گا جس سے معدنیات، آبی وسائل اور زرعی زمینوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنا ممکن ہو سکے گا اور ملک کے دور دراز اور مشکل رسائی والے علاقوں جیسے برفانی گلیشئرز اور پہاڑی علاقوں میں برف کے پگھلنے جیسے واقعات کی نگرانی میں بھی مدد ملے گی۔
یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا پتا لگائے گا اور جنگلات کی کٹائی یا آگ لگنا، آلودگی کی روک تھام اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کو موثر بنایا جا سکے گا۔
قدرتی آفات کے معاملے میں اس سیٹلائٹ کو استعمال کر کے سیلاب، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ اور خشک سالی جیسی قدرتی آفات کے اثرات کی بروقت پیشگوئی، ان کی شدت کا اندازہ لگانا اور امدادی کاموں کی منصوبہ بندی اور تیاری میں بھرپور مدد ملے گی۔
یہ سیٹلائٹ زراعت کے شعبے میں بے انتہا اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ یہ فصلوں کی بہتر پیداوار کے لئے ضروری عوامل مثلاً آب پاشی کی ضروریات، موسمی اثرات اور زرعی بیماریوں وغیرہ سے متعلق راہنمائی کے ذریعے غذائی تحفظ کے اقدامات میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور زرعی پیداوار میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ای او اول پاکستان میں شہری ترقی کی منصوبہ بندی، آبادی کی تقسیم کی درست معلومات اور انفراسٹرکچر کی تفصیلات حاصل کرنے میں آسانی کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں کی نگرانی اور سرحد کے آس پاس غیر قانونی سرگرمیوں یا مشکوک نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے کام بھی آ سکے گا جس سے ملکی دفاع ناقابل تسخیر ہو جائے گا۔
پاکستانی خلائی ایجنسی
اس سیٹلائٹ کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ پاکستان کے خلائی پروگرام کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا اور پاکستان کو دنیا کے ان چند ممالک کی صف میں لا کھڑا کرے گا جو زرعی اور شہری منصوبہ بندی، قدرتی آفات کے انتظامات اور جغرافیائی اور ماحولیاتی عوامل کی نگرانی کے لئے مصنوع خلائی سیاروں کا استعمال کرتے ہیں جو کہ بطور ایک قوم یقیناً بے حد فخر اور خوشی کی بات ہوگی۔
یہ صرف ایک سیٹلائٹ ہی نہیں بلکہ شاہین جیسے اونچے ارادے اور لازوال عزم والی پاکستانی قوم کے لئے خلا میں موجود آنکھوں کے مترادف ہے اور یہ حقیقت ہے کہ نامساعد حالات اور ان گنت مشکلات کے باوجود سترہ جنوری کو شاہین کو آنکھیں ملنے والی ہیں۔
(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)

Comments