بینظیر انکم سپورٹ کے مستحقین کے لئے خوشخبری
- Shakir Khan

- Oct 23, 2024
- 2 min read
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چئیر پرسن "روبینہ خالد" نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے پیسوں کو کچھ حد تک بڑھایا یے۔
اس وقت پاکستان میں تقریباً 9.3 ملین لوگ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کیا مقصد ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا مقصد پاکستان میں غربت میں کمی لانا اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ پروگرام خاص طور پر غریب خواتین اور ان کے خاندانوں کو مالی معاونت دیتا ہے تاکہ ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے ذریعے حکومت مستحق خاندانوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کرتی ہے، جس کا مقصد ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا اور معاشرتی تحفظ فراہم کرنا ہے۔اسکے علاؤہ جو جو خواتین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق ہیں اور انکے بچے سکول/کالج بھی پڑھتے ہیں تو انکے لئے بھی ہر تین ماہ میں حکومت کی جانب سے پیسے ملتے ہیں،
اگر آپکا بچہ سکول پڑھ رہا ہے تو انکو ہر سہ ماہی 2500 روپے (کتنے روپے ملیں گے یہ اس بات پر انحصار کرتا ہیکہ آپکا بچہ کونسی کلام میں پڑھتا ہے) جبکہ بچی کو لڑکے سے 1000 روپے زیادہ ملتے ہیں یعنی اگر لڑکے کو 2500 روپے ملیں گے تو لڑکی کو 3500 روپے ملیں گے۔
کراچی میں سندھ گورنمنٹ ہسپتال پی آئی بی کالونی میں بے نظیر نشوونما سینٹر کے دورے کے دوران روبینہ خالد نے کہا کہ ہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے جاری پیسوں میں "3000" پاکستانی روپیوں کا اضافہ کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت 9.3 ملین بینظیر انکم سپورٹ کے
مستحقین خاندانوں کو "10,500" روپے دیے جا رہے ہیں مگر اس اضافے کے بعد انکو ہر سہ ماہی "13500" روپے ملیں گے۔
پاکستان میں عورتوں کا تناسب اور اور انکی غربت پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ
2023 کے مطابق، پاکستان کی کل ابادی تقریباً 240 ملین ہے، 240 ملین ہے، جس میں خواتین کا تناسب تقریباً 48.5% ہے، یعنی ملک میں تقریباً 116 ملین خواتین ہیں۔
جہاں تک غربت کا تعلق ہے، مختلف تخمینے مختلف پیمانوں پر منحصر ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق، پاکستان کی تقریباً 39.3% ابادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے (2020 کے مطابق)۔ چونکہ غربت مردوں اور عورتوں دونوں کو متاثر کرتی ہے، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی اس زمرے میں آتی ہے۔ تاہم، خاص طور پر خواتین کی غربت کا فیصد معلوم کرنا مشکل ہے۔ خواتین کی غربت کی شرح زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے پاس تعلیم، روزگار کے مواقع اور آمدنی میں صنفی تفاوت جیسے مس
ائل زیادہ ہیں۔


Comments